18 اکتوبر 2011 - 20:30

حکومت پنجاب نے محرم الحرام سے قبل صوبہ بھر میں ناجائز اسلحہ کے خلاف کریک ڈائوں اپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔

ابنا: ذمہ دار ذرائع کے مطابق ناجائز اسلحے کے خلاف کریک ڈان کا یہ فیصلہ حساس اداروں کی جانب سے ملنے والی ان اطلاعات کی روشنی میں کیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ محرم الحرام سے قبل پنجاب بھر میں بڑے پیمانے پر اسلحہ کی منتقلی کا امکان ہے، اپریشن کے دوران جہاں اسلحہ ڈیلرز کیخلاف کارروائی ہو گی وہاں عام لوگوں کے ریکارڈ کو بھی چیک کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اس سلسلے میںانٹی ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، پنجاب پولیس اور صوبے کے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو اسلحہ ڈیلرز کا ریکارڈ چیک کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب صوبے میں موجود ممنوعہ اور غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے نادرا حکام کو سفارش کی گئی ہے کہ اس کام کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ ناجائز اسلحے کے خلاف یہ آپریشن مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے پہلے ہی فہرستیں مرتب کر لی ہیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسلحہ ڈیلرز کی ایک بڑی تعداد بغیر حکومتی اجازت کے محکمہ داخلہ کے نچلے درجے کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر ناجائز اسلحہ فروخت کرنے کا کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت پر میڈیا سمیت وفاقی حکومت کی جانب سے بھی کھلے لفظوں الزامات لگایے گیے ہیں کہ وہ دھشت گرد اور کالعدم تنظیموں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے اور کچھ دھشت گردوں کو سیف پیکیج دینے کے ساتھ ساتھ مالی معاونت بھی کرتی ہے خاص کے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ ان الزمات کا نشانہ رہے ہیں...........

/169